Monday, January 16, 2012

آخری وقت اشاعت: پير 9 جنوری 2012 ,‭ 13:51 GMT 18:51 PST
Facebook Twitter دوست کو بھیجیں پرنٹ کریں .
دنیا میں اگلا برفانی دور ڈیڑھ ہزار سال کے اندر شروع ہونا چاہئیے
امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا میں کاربن ڈائی آکسائڈ خارج ہونے کے سبب برف کے اگلے دور میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

پچھلی مرتبہ دنیا میں برف کا یہ دور گیارہ ہزار پانچ سو سال پہلے ختم ہوا تھا لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ برف کا اگلا دور کب شروع ہوگا۔

متعلقہ عنواناتسائنس تحقیق کاروں نے زمین کے مدار میں موجود تمام اعدادوشمار کا استعمال کرکے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ دو برفانی ادوار کے درمیان گرم دور کونسا ہے جو کہ بظاہر موجودہ دور ہے۔

سائنسدانوں نے سائنسی جریدے ’نیچر جیو سائنس‘ میں لکھا ہے کہ دنیا میں اگلا برفانی دور ڈیڑھ ہزار سال کے اندر شروع ہونا چاہئیے لیکن کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج اتنا زیادہ ہے کہ اس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

تحقیق کاروں کے ایک اور گروپ کا کہنا ہے کہ اگر گیسوں کا یہ اخراج فوری طور پر بند بھی کر دیا جائے تو بھی ہمارے سمندروں میں ماحول میں اتنی گرمی ہے کہ برف پگھلنے اور سطح سمندر میں اضافے کا سلسلہ جاری رہےگا۔

برفانی دور سے گرم دور میں تبدیلی کی وجہ زمین کے مدار میں مختلف تبدیلیاں ہوتی ہیں اور یہ تبدیلیاں ہزاروں سال میں آتی ہیں۔
امریکی محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا مینڈک دریافت کر لیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق پاپوا نیوگنی کے جنگلات میں پایا جانے والا یہ بھورے رنگ کا مینڈک صرف سات ملی میٹر کا ہے۔

متعلقہ عنواناتسائنس اس مینڈک کو ’پیڈوفرین امائنسز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ ممکنہ طور پر ریڑھ کی ہڈی رکھنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا جانور ہے۔

اس مینڈک کو دیارفت کرنے والی ٹیم کے مطابق یہ جنگل کی زمین پر جمع ہونے والے پّتوں میں رہتا ہے اور اس کا اتنا چھوٹا ہونا اس کے لیے ان پتّوں میں چھپ کر شکار تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ مینڈک اس ماحول میں بسنے والے کیڑوں جیسی آوازیں نکالتا ہے۔

سائنسدانوں کی ٹیم کے ایک سربراہ اور امریکہ کی لوئزیانا سٹیٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کرس آسٹن کا کہنا ہے کہ ’نیو گنی کے جنگلات میں رات کو بےپناہ شور ہوتا ہے اور ہم اس جنگل میں مینڈکوں کی آوازیں ریکارڈ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کے علاوہ آنے والی آوازیں کیسی ہیں‘۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’پھر ہم نے ان مختلف آوازوں کی تلاش کی تو پتہ چلا کہ یہ پتوں کے ڈھیر سے بلند ہو رہی ہیں۔ وہاں رات تھی اور یہ بہت ہی چھوٹے تھے۔ اس لیے ہم نے پتوں کا ڈھیر اٹھا کر شفاف پلاسٹک کے لفافے میں ڈالا تو ہمیں یہ انتہائی چھوٹے مینڈک پھدکتے دکھائی دیے‘۔
سائنسدانوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر ایسے سیاروں کی تلاش میں مدد دیں جن پر ممکنہ طور پر زندگی موجود ہو سکتی ہے۔

اس کام میں حصہ لینے کے لیے رضا کاروں کو ایک ویب سائٹ پر جانا ہوگا جہاں ڈیڑھ لاکھ ستاروں کی ایسی تصاویر موجود ہیں جو کیپلر خلائی دوربین سے کھینچی گئی ہیں۔

اسی بارے میں’ہماری کہکشاں میں ہر ستارے کا اپنا سیارہ‘ناسا کے مصنوعی سیارے چاند کے مدار میںزمین کا ’جڑواں‘ سیارہ دریافت
متعلقہ عنواناتسائنس گزشتہ برس ییل اور آکسفرڈ یونیورسٹیز کے سائنسدانوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کی جانب سے بنائی جانے والی اس ویب سائٹ پر انہیں ان اشاروں کے بارے میں بھی بتایا جائے گا جن کی مدد سے وہ کسی سیارے کی موجودگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور یہ کہ اگر وہ کسی سیارے کی نشاندہی کر پاتے ہیں تو وہ ماہرین کو کیسے بتا سکتے ہیں۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے کرس لنٹاٹ کا کہنا ہے کہ ’ ہم جانتے ہیں کہ عوام وہ سیارے تلاش کر لیں گے جو کمپیوٹر نہیں کر پایا‘۔

کیپلر خلائی دوربین نے دو ہزار نو میں کام شروع کیا تھا اور وہ خلاء کے اس حصے کا جائزہ لے رہی ہیں جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہاں ہمارے سورج جیسے ستارے موجود ہو سکتے ہیں۔

اب تک کیپلر کی مدد سے کی جانے والی اہم ترین دریافت کیپلر 22 بی نامی سیارے کا ملنا ہے جو کہ حجم اور درجۂ حرارت میں زمین سے مشابہہ ہے اور چھ سو نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

"ہم جانتے ہیں کہ عوام وہ سیارے تلاش کر لیں گے جو کمپیوٹر نہیں کر پایا۔"

کرس لنٹاٹ
اب گزشہ نو ماہ کے دوران اس خلائی دوربین کی مدد سے حاصل کی گئی تصاویر پلینٹ ہنٹرز ویب سائٹ پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل ان تصاویر تک صرف پیشہ ور ماہرینِ فلکیات اور ان کے کمپیوٹرز کو رسائی دی گئی تھی۔

کرس لنٹاٹ کے مطابق ’ہمیں یقین ہے کہ ایسے بہت سے سیارے موجود ہیں جنہیں دریافت کیا جانا باقی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ عوام میں سے کوئی بھی اگر کسی سیارے کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ اس کے بارے میں الرٹ کر سکتا ہے اور اگر یہ قابلِ ذکر سیارہ ہوا تو انہیں اس کا کریڈٹ دیا جائے گا اور اس دریافت کے بارے میں سائنسی دستاویزات میں ان کا نام بھی شامل ہوگا۔

تاہم رضاکاروں کی جانب سے دریافت شدہ سیاروں کے نام ان کے نام پر نہیں رکھے جا سکتے کیونکہ سیاروں کے نام ان ستاروں سے لیے جاتے ہیں جن کے گرد وہ گردش کرتے ہیں۔