سائنسدانوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر ایسے سیاروں کی تلاش میں مدد دیں جن پر ممکنہ طور پر زندگی موجود ہو سکتی ہے۔
اس کام میں حصہ لینے کے لیے رضا کاروں کو ایک ویب سائٹ پر جانا ہوگا جہاں ڈیڑھ لاکھ ستاروں کی ایسی تصاویر موجود ہیں جو کیپلر خلائی دوربین سے کھینچی گئی ہیں۔
اسی بارے میں’ہماری کہکشاں میں ہر ستارے کا اپنا سیارہ‘ناسا کے مصنوعی سیارے چاند کے مدار میںزمین کا ’جڑواں‘ سیارہ دریافت
متعلقہ عنواناتسائنس گزشتہ برس ییل اور آکسفرڈ یونیورسٹیز کے سائنسدانوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کی جانب سے بنائی جانے والی اس ویب سائٹ پر انہیں ان اشاروں کے بارے میں بھی بتایا جائے گا جن کی مدد سے وہ کسی سیارے کی موجودگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور یہ کہ اگر وہ کسی سیارے کی نشاندہی کر پاتے ہیں تو وہ ماہرین کو کیسے بتا سکتے ہیں۔
آکسفرڈ یونیورسٹی کے کرس لنٹاٹ کا کہنا ہے کہ ’ ہم جانتے ہیں کہ عوام وہ سیارے تلاش کر لیں گے جو کمپیوٹر نہیں کر پایا‘۔
کیپلر خلائی دوربین نے دو ہزار نو میں کام شروع کیا تھا اور وہ خلاء کے اس حصے کا جائزہ لے رہی ہیں جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہاں ہمارے سورج جیسے ستارے موجود ہو سکتے ہیں۔
اب تک کیپلر کی مدد سے کی جانے والی اہم ترین دریافت کیپلر 22 بی نامی سیارے کا ملنا ہے جو کہ حجم اور درجۂ حرارت میں زمین سے مشابہہ ہے اور چھ سو نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
"ہم جانتے ہیں کہ عوام وہ سیارے تلاش کر لیں گے جو کمپیوٹر نہیں کر پایا۔"
کرس لنٹاٹ
اب گزشہ نو ماہ کے دوران اس خلائی دوربین کی مدد سے حاصل کی گئی تصاویر پلینٹ ہنٹرز ویب سائٹ پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل ان تصاویر تک صرف پیشہ ور ماہرینِ فلکیات اور ان کے کمپیوٹرز کو رسائی دی گئی تھی۔
کرس لنٹاٹ کے مطابق ’ہمیں یقین ہے کہ ایسے بہت سے سیارے موجود ہیں جنہیں دریافت کیا جانا باقی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ عوام میں سے کوئی بھی اگر کسی سیارے کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ اس کے بارے میں الرٹ کر سکتا ہے اور اگر یہ قابلِ ذکر سیارہ ہوا تو انہیں اس کا کریڈٹ دیا جائے گا اور اس دریافت کے بارے میں سائنسی دستاویزات میں ان کا نام بھی شامل ہوگا۔
تاہم رضاکاروں کی جانب سے دریافت شدہ سیاروں کے نام ان کے نام پر نہیں رکھے جا سکتے کیونکہ سیاروں کے نام ان ستاروں سے لیے جاتے ہیں جن کے گرد وہ گردش کرتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment